دراصل ہر بات میں کچھ سچ بھی ہوتا  ہے اور کچھ جھوٹ بھی۔ کچھ ہاں اور کچھ نہ۔ یعنی کوئ بات اپکو بہت سلجھی ہوئ لگے گی اور دوسرے  نظریئے سے دیکھیں تو بہت الجھی ہوی لگے گے۔کوئ بھی چیز سرٹن نہیں ہوتی۔ہر بات کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک دوسرے سے یک دم فرق۔ انسان اکثر ہر بات کا صرف  ایک پہلو دیکھتا ہے۔ دوسرے کو دیکھ نہیں پاتا یا     شاید دیکھنا چاہتا نہیں ہے۔ہماری زندگی بھی ایسی ہی ہے، دو پہلو  والی۔ شاید اپکو یہ منطق بہت بے وجہ اور انتہا درجے کی فضول لگے پر سچ ہمیشہ کڑوہ  ہوتا ہے۔ جس سے یاد آیا مجھے میٹھی لسسی بہت پسند ہے اور کراچی کی گرمی میں میٹھی لسسی مل جائے تو انسان جیسے جنت میں آجائے۔ کہا جاتا ہے کہ جنت یا دوزخ دونو ں میں موت کا کوئ  تصور ہی نہیں۔ جنت کی یہ بات تو شاید  بہت اچھی معلوم ہوئے پر دوزخ کی یہی بات نہایت بری یا شاید برائ کو بیان کرنے کے  لیے  کوئ اور لفظ ہو تو وہ یہ جگہ بہت اچھی سمبھال لے۔دراصل مجھے ہمیشگی کی زندگی سے خوف آتا ہے اور کافی عرصے سے اس بارے میں سوچ رہی تھی۔ بس موقع نہیں ملا کے سب سے دور اکیلے بیٹھ کر اس موضع پر اپنے الفاظ کی محفل سجا سکوں۔ اکیلے بیٹھنا یا سوچتے وقت بولنا میری نظر میں بری بات نہیں ہے۔ پرایسے میں آپ دوسرے انسانوں سے دور  ہوجاتے ہو لیکن کبھی کبھار اپنے خیالات کو کاغذ پر منتقل کرنا زیادہ  بہتر ثابت ہوتا ہے یا پھر شاید یہ بات بھی ایک پہلو سے صحیح اور دوسرے پہلو سے غلط ہو جیسا میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ 
Advertisements