Listen to the Audio here :  Audio Of Talluq.
دعا –  بندے اور رب کا تعلق :
میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک لیکچر سنا تھا ۔  کچھ ضروری باتیں تھیں جو میں یہاں بیان کرنا چاھونگی۔
جب بھی کوئ پریشانی ھو تو سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کریں ۔ عام طور پر انسان اپنے پسندیدہ لوگ یا دوست احباب یا اکژر طور پر ماں باپ کو پکارتا ہے ۔ شرک کا پہلا دروازہ یہی سے کھلتا ہے جب بندہ مشکل میں اپنے رب کے بجاۓلوگوں پر توکل رکھتا ہے اور لوگوں ہی سے امید لگاۓ ھوتا ہے۔ اگر ھم سب سے پہلے اپنے رب کو پکاریں اور پکار کر بھی شکوہ نا کریں کی اے اللہ میرے ساتھ یہ ھوگیا ، وہ ھو گیا نہیں بلکہ شکر کریں بلا شبہ آپ ابھی بھی بہتوں سے بہتر ھیں۔
سورہ بقرۃ کی میں ایک دو ایتیوں کو یہاں کوٹ کرنا چاھونگی :
” اس لئے تم میرا زکر کرو ‘ میں بھی تمیں یاد کروں گا ‘ میری شکرگزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔ اے ایمان والو! صبر اور  نماز کے ساتھ مدد چاہو’ اللہ تعالٰی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔”
سورۃ بقرۃ ایت ( 153- 152 )
مندرجہ بالا ایتوں سے یہ بات ژابت ہے کہ مصیبت کے وقت ناشکری سے بچنا چاہیے ۔ جبکہ عام طور پر ھمارا یہی ریاکشن ھوتا ہے۔ جب اللہ دیکھتا ھے کے اسکا بندہ پریشانی میں بھی شکرگزاری کر رھا ہے تو اللہ خوش ھو کر مسلئہ حل کردیتا ہے۔
دعا عبادت کا بہترین عمل ہے۔ افضل ترین۔ پر اسمیں بھی کچھ شرائط ہیں ۔ جب دعا مانگے تو یقین ھونا چاہیے کہ دعا قبول ھوگی۔ بغیر یقین کے دعا اللہ تک پہنچھ ھی نہیں پاتی۔ اور اس کی ساتھ ساتھ خود بھی کچھ ہلنا پڑتا ہے۔ یہ نہیں کے دودھ چولے پر رکھ کر بنا چولہ جلاۓ دعا کریں کے دودھ ابل جاۓ تو پھر بھای اپ کی عقل کو سلام ہے۔
دعا اتنا قرب کا رشتہ ہے اللہ تعالٰی سے جو کہ کسی اور عبادت میں نہیں ھوتا۔ دعا میں ہم اللہ سے ڈاریکٹ بات کر رہے ھوتے ہیں۔
دعا ھر حل میں مانگنی چاہیے کیونکہ دعا نا مانگنا تکبر کی علامت ہے۔مشکل آرہی ھوتی ہے اور انسان دعا کر رہا ھوتا ہے تو دعا اگر اتنی طاقتور ہو تو مشکل واپس چلی جاتی ہے۔ اس لیے ہر حال میں دعا مانگتے رہنا چاہیے۔
مانگتے وقت پر امید ھونا چاہیے کیونکہ اللہ کا خزانہ اور علم دونوں لامحدود ہیں۔
دکھ کتنا بھی گہرا ھو ، آزمائش کتنی بھی طویل ھو، مشکل کتنی بھی ھو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ھونا چاہیے۔
آزمائش کے وقت صبر اور شکر سے کام لینا چاہیے اور اللہ کے رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ بے شک وہ بہتر جانتا ہے۔
” اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے’ دشمن کے ڈر سے’ بھوک پیاس سے’ مال و جان اور پھولون کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خشخبری دے دیجۓ۔ جنہیں’ جب کبھی کوئ مصیبت آتی تو کہدیا کرتے ہیں ہم تو اللہ تعالٰی  کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔”
سورۃ بقرۃ ایت ( 157- 155  )
ایک اور آیت میں فرمایا گیا :
” ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لۓ بھلی ھو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو’  اورحالانکہ وہ تمہارے لۓ بری ھو’ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے’ تم محض بے خبر ہو “
سورۃ بقرۃ ایت ( 216 )
لیکچر میں ایک یہ جملہ بھی تھا :
” تم میں سے جس کو دعا کی توفیق ھو گئ گویا اسکے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے گۓ۔”
جب بندہ ہاتھ اٹھا کر کچھ مانگتا ہے تو اللہ خالی لٹاتے ہوۓ شرماتا ہے۔
اللہ تعا لٰی کو پسند ہے جب اسکا بندہ اسکے نام لے کر اسے پکارتا ہے۔
رات کے اخری حصے میں اللہ اپنے بندے کے سب سے قریب ھوتا ہے۔
دعا کسی بھی زبان میں مانگی جاسکتی ہے۔ بہتر ہے اپنی مادری زبان  ( mother tongue  )  میں مانگی جاۓ کیونکہ انہی جزبات اور اس شددت  کے ساتھ وہ کسی اور زبان میں نہیں مانگ پاۓ گا۔
حرام کھانے والوں کے دعا قبول نہیں ھوتی جب تک وہ سچی توبہ کر کے اپنے اعمال درست نا کر لے۔
جب بھی اپ فارغ ھوں یا کوئ ایسا کام کر رہے ہوں جس میں اپ کو بولنے کی ضرورت نا ہو تو کوئ بھی چھوٹی دعا پڑھتے رھا کیجیے جتنا آپ اللہ کا زکر کرینگے تو وہ بھی خوش ھوکر آپ کو یاد کریں گا۔ انشااللہ ۔
امید ہے پڑھ کر عمل کرینگیں اور دوسروں کو بھی یہ باتیں پہنچاینگے۔
اگر اپکو پورے لیکچر کی لنک چاہیے ھو تو مندرجہ زیل ای – میل پر رابط کریں۔
October_girl21@hotmail.com
شکریہ ۔

Advertisements