پاکیزہ
تھوری کم عقل ہے تھوری بد سلیقہ بھی،
پل میں کھسیانی پل میں روھانسی بھی،
بیٹھتی تھی میرے آگے ہمیشہ،
جھگڑے اور پھر خود ہی سناۓ بھی لطیفہ،
کبھی شاھد کبھی ٹوم تو کبھی کوئ اور،
بس یہی تھا اس کے خیالات کا سانچا،
چشما  لگاۓ‘ اقبال کی طرح سوچتی،
کبھی ناخن کترتی تو کبھی بال نوچتی،
بولنا شروع ہوتی تو رات ھو جاتی،
بات نہ سنو تو ناراض ہو جاتی،
نہ وقت کی فکر تھی نہ بولنے کا ڈھنگ،
سوچتی میں’ تھک نہیں جاتے اسکے لنگس،
ہر وقت ہنستے رہنا تھی اسکی عادت،
سٹار پلس تھا انکا مشغولِ فراغت،
اپنے نام کی طرح رہتی وہ پاکیزہ،
میں بلاتی تھی پیار سے اسے پیزا۔
فرار۔ 
Advertisements